پنجی/ نئی دہلی 27 اگست (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) رافیل معاہدہ میں خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگا کر کانگریس نے گوا کے وزیر اعلی اور سابق وزیر دفاع منوہر پاریکرپر جم کر نشانہ سادھا ۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ پاریکر کو فرانسیسی فوجی طیارے کی خریداری کے سلسلے میں قوانین کی خلاف ورزی کئے جانے کا علم تھا ۔
کانگریس کے ترجمان پرینکا چترویدی نے پارٹی ہیڈ کوارٹر میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ پاریکر کے وزیر دفاع ہونے کے باوجود انہیں یہ علم نہ ہو کہ ایک ٹرانزیکشن پر بات ہوئی ہے۔ دستخط ہوئے ہیں اور اس پر اتفاق رائے بھی قائم ہوئی ہے ۔
پرینکا چترویدی نے کہا کہ ایک وزیر دفاع کو دفاعی امور پر کابینہ کمیٹی کے قوانین کی خلاف ورزی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اوردفاعی عمل میں قوانین کی خلاف ورزی کے بارے میں جانتا ہے ۔ لیکن سابق وزیر دفاع منوہر پاریکر مسلسل خاموشی بنائے ہوئے ہے اور کیس کے متعلق زبان نہ کھولنے کا طریقہ اختیار کرلیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ان کی خاموشی ملک کو دھوکہ دینے والے اس معاہدے کے تحت ایک سازش ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں ایک وزیر دفاع ہیں، جنہوں نے معاہدے پر دستخط ہونے سے کچھ دن پہلے آن ریکارڈ کہا تھا کہ معاہدے کے چند شرطوں میں تبدیلی ناممکن ہے۔ لیکن پتہ تھا کہ یہ وہ وہی کلاز تھے، جن پر فرانس میں معاہدہ ہوا۔ چترویدی نے کہا کہ پھر ملک کے عوام نے دیکھا کہ کس طرح پاریکر نے جواب دینے کے بجائے حقائق کو چھپایا۔ یہ سب جانتے ہیں کہ وہ خود اس کے لئے تیار نہیں تھے۔